124

شیخوپورہ کی ڈائری از قلم شیخ سہیل آحد 4

شیخوپورہ کی ڈائری

از قلم شیخ سہیل آحد

مؤرخہ 15 دسمبر 2022ء

گذشتہ ہفتے کے دوران چوہدری کنور عمران سعید خان ایڈووکیٹ نے پاکستان تحریک انصاف ضلع شیخوپورہ کے عہدہ سے اچانک استعفیٰ دیا تو یہ بات مکمل طور پر غیر متوقع ہونے کی وجہ سے جنگل کی آگ کی طرح سیاسی حلقوں میں پھیل گئی اور ہر سیاسی مبصر نے اس بارے میں علیحدہ علیحدہ رائے کا اظہار کیا اب ان کی جگہ پنجاب اسمبلی کے رکن چوہدری عمر آفتاب ڈھلوں کو پی ٹی آئی ضلع شیخوپورہ کا صدر نامزد کر دیا گیا ہے وہ کنور عمران سعید خان ایڈووکیٹ کے یہ عہدہ سنبھالنے سے قبل بھی ضلعی صدر رہ چکے ہیں مگر ضلع شیخوپورہ کے سرحدی قصبہ نارنگ منڈی میں مقیم ہونے کی وجہ سے شیخوپورہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز کو زیادہ وقت نہیں دے سکے تھے چوہدری کنور عمران سعید خان ایڈووکیٹ سال 2012ء میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن میں واضع اکثریت سے ضلعی صدر بنے تھے اس انٹرا پارٹی الیکشن میں پارٹی اس قدر گروہ بندی کا شکار ہوئی کہ پولنگ ڈے پر نوبت دو فریقوں کے درمیان کرکٹ سٹیڈیم میں فائرنگ تک پہنچ گئی چوہدری کنور عمران سعید خان ایڈووکیٹ دس برس تک مسلسل پی ٹی آئی ضلع شیخوپورہ کی صدارت کے عہدہ پر براجمان رہے اس دوران نہ صرف انہیں بلکہ ان کے ساتھیوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کئی بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لانگ مارچ کے دوران اسلام آباد کے راستے میں پرتکلف پارٹی میں شرکت کی وجہ سے ان کے ساتھیوں کو حرف تنقید بھی بنایا گیا دس برس کے دوران انہوں نے اپنے آبائی گاؤں مالووال سے پنجاب اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا مگر وہ اسی علاقہ کی روایات کی وجہ سے ناکام ہوگئے سیاسی مبصرین ان کی دن رات کی ورکنگ اور عمران خان سے والہانہ محبت اور مروجہ سیاست کے لیے دستیاب وسائل دیکھ کر اس بات پر انہیں قائل کر رہے تھے کہ وہ پی پی 140 شیخوپورہ سٹی سے الیکشن لڑیں اب انہوں نے اس حلقہ سے الیکشن لڑنے کی خاطر ضلعی صدارت کو چھوڑ دیا ہے اور بقول راوی انہیں پارٹی کی ہائی کمان سے اشارہ ملا ہے کہ اب وہ اپنے نئے حلقہ انتخاب یعنی پی پی 140 پر فوکس کریں اور اسے اپنی سرگرمیوں کا محور بنائیں اسی حلقہ میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ کے امیدواروں میں چوہدری محمد طیاب راشد سندھو جیسی سیاسی طور پر قدآور شخصیت کے ساتھ ساتھ سابق جنرل سیکرٹری بار ایسوسی ایشن میاں علی بشیر ایڈووکیٹ، چیئرمین مرکزی انجمن تاجران الحاج ملک محمد اسلم بلوچ، پاکستان تحریک انصاف کے بانی کارکن پروفیسر محمد وسیم باری ایڈووکیٹ اور سابق سٹی ناظم حافظ مدثر مصطفیٰ خان جیسے متحرک رہنماء بھی شامل ہیں چوہدری کنور عمران سعید خان ایڈووکیٹ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی میں تھے جو پاکستان تحریک انصاف کے قیام کے کچھ عرصہ بعد اس جماعت سے وابستہ ہوگئے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری اب تک کی سیاسی صورتحال کی بناء پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ چوہدری کنور عمران سعید خان ایڈووکیٹ نے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں آبائی حلقہ کو چھوڑنے کا فیصلہ درست کیا ہے اور ٹکٹ کے دیگر امیدواروں کے اعتراض کو دور کرنے کے لیے پارٹی کی ضلعی صدارت چھوڑنے کا فیصلہ بھی احسن اقدام ہے جس کی وجہ سے پی پی 140 میں پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ کے دیگر امیدواروں کو یہ اعتراض اٹھانے کا موقع نہ ملے گا کہ کنور عمران سعید خان ایڈووکیٹ نے ضلعی صدارت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹکٹ کے حصول کی جدوجہد شروع کر دی ہے۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ ضلع شیخوپورہ کے سرکاری اور بلدیاتی اداروں میں آئے ہوئے کرپشن کے طوفان کو روکنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی سردی میں اضافے کے ساتھ ہی ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں سرکاری اداروں جن میں ہسپتال اور محکمہ آبپاشی بھی شامل ہیں اور بلدیاتی اداروں میں مقامی طور پر کوٹیشنوں کے ذریعے سرکاری فنڈز خرد برد کرنے کا شروع ہونے والا سلسلہ اس دور میں بھی رک نہ سکا ہے اور قابل غور بات یہ ہے کہ اسے روکنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی بھی نہیں کی جا رہی حکومت پنجاب نے کئی عشرے قبل یہ فیصلہ کیا تھا کہ ایمرجنسی کی صورت میں 25 ہزار روپے مالیت تک کے چھوٹے چھوٹے ترقیاتی کاموں کے علاوہ دفتری سامان کی خریداری، ڈسپوزل کی خرابی کو دور کرنے، مین ہولز بنانے کے کاموں کے علاوہ ایمرجنسی کی صورت میں لائٹوں کی تنصیب وغیرہ کے کام فوری طور پر کوٹیشنوں کے ذریعے کروائے جاسکتے ہیں مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ساتھ کوٹیشنوں کے ذریعے کام کروانے کی رقم کا حجم بھی دو لاکھ روپے تک پہنچ گیا جس سے کرپٹ افسروں اور ان کے منظور نظر ٹھیکیداروں کے وارے نیارے ہوگئے ہیں اور اب تو چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن فیروز والا محمد منشاء احسن کی گرفتاری کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن کے حکام نے اس کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا دیا تو انکشاف ہوا کہ بعض بلدیاتی اداروں میں ہینڈ رسیدوں اور لوکل کوٹیشنوں جس کے لیے ہر کام کی خاطر اخبار میں اشتہار دینے کی ضرورت نہ ہوتی ہے کا پورا پورا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور ایک صاحب بتا رہے تھے کہ کچھ ماہ پہلے کی بات ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے ٹراما سنٹر میں سی سی ٹی وی کیمرے جزوی طور پر بند کر دیئے گئے جس کے بعد فوری طور پر کیمروں کو ٹھیک کرنے کے لیے دو چار منظور نظر ٹھیکیداروں میں سے ایک کو بلا لیا گیا جس نے کیمروں پر پڑی ہوئی مٹی اور دھول کو صاف کیا چھیڑے گئے تار کو صحیح جگہ ایڈجسٹ کیا تو کیمرے کام کرنا شروع ہوگئے پھر چند منٹوں کے اس عمل کے بعد کیمروں کو ٹھیک کرنے کا 27 ہزار روپے کا بل ڈال دیا گیا جس کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ ایک دیانتدار افسر نے منظوری دینے سے انکار کر دیا تو اس کی منظوری کے بغیر ہی مجاز اتھارٹی نے بل پاس کرڈالا ایسا روزانہ ھورہا ہے اب بعض بلدیاتی اداروں کے بارے میں مشہور ہوگیا ہے کہ ان کی طرف سے لگائے جانے والے مین ہولز کے ڈھکنوں میں سیمنٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے جو چند روز بعد ہی چکنا چور ہو کر مین ہول کے اندر ہی گر جاتے ہیں حالانکہ ضلع شیخوپورہ کی تاریخ گواہ ہے کہ شیخوپورہ کے علاقہ سول لائنز میں معروف زمیندار اور تاجر محمد جاوید خان برکی کی کوٹھی جو لال کوٹھی کے نام سے مشہور ہے میں قیام پاکستان سے قبل لگائے جانے والے مین ہولز کے ڈھکن آج بھی کام کر رہے ہیں اور ان مین ہولز کے ڈھکنوں سے ہی قیام پاکستان سے قبل اس کوٹھی میں مقیم سردار راجہ بریندر سنگھ کے بیٹےسردار راجہ شا ئلندراکوشک سنگھ جو بھارتی ایئر فورس سے سکوارڈن لیڈر کے عہدہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا آبائی گھر دیکھنے شیخوپورہ آئے تھے نے اپنے آباؤاجداد کی کوٹھی کی شناخت کی تھی۔

پنجاب کے دوسرے شہروں کی طرح شیخوپورہ میں بھی مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے اور اس ضلع میں گندم کی قیمت4000 روپے فی 40 کلو گرام کے حساب سے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اس سال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث گندم کے کاشتکاروں کو یوریا کھاد مجبوری کے عالم میں 2250 روپے کی بجائے 28 تا 29 سو روپے فی بوری کے حساب سے خریدنا پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے کاشتکار طبقہ میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے ضلع شیخوپورہ میں بعض افسروں کی طرف سے کارروائی نہ ہونے کے باعث 4 بڑے سرمایہ کاروں نے کروڑوں روپے کی یوریا کھاد خرید کر اس کے ذخائر خفیہ مقامات پر کیئے ہوئے ہیں سپیشل برانچ کی طرف سے مسلسل حکومت پنجاب کو رپورٹس بھیجنے کے باؤجود کھاد کی بلیک میں فروخت نہ رک سکی ہے اور کئی کاشتکاروں کو تو یوریا کے ساتھ ساتھ ڈی اے پی کھاد خریدنے پر بھی مجبور کیا جا رہا ہے ضلع انتظامیہ کے حالیہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بلیک میں کھاد فروخت کرنے والے ڈیلروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مقدمات درج نہ کروانے والے افسروں اور محکمہ زراعت کے انسپکٹروں کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006ء کے تحت کارروائی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں