103

شیخوپورہ کی ڈائری ازقلم شیخ سہیل آحد 3

شیخوپورہ کی ڈائری

ازقلم شیخ سہیل آحد

مؤرخہ یکم دسمبر 2022ء

سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے راولپنڈی کے جلسہ میں غیر متوقع طور پر پاکستان تحریک انصاف کے اسمبلیوں سے باہر آ جانے کا عندیہ دیئے جانے کے بناء پر ملکی سیاست میں جو ہلچل مچی ہے اس کا اثر ضلع شیخوپورہ کی سیاسی بساط پر بھی ہوا ہے اور اگلے انتخابات کی کچھ لوگوں نے تو تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اور کئی نئے چہرے بڑی سیاسی پارٹیوں کے ٹکٹوں کے حصول کے لیے ابھی سے سرگرم ہوگئے ہیں اور کئی لوگ جنہوں نے گذشتہ تین چار سالوں میں سیاسی بساط پر اپنا نام منوانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیئے تھے دوسری صفوں میں چلے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا گذشتہ ہفتے کے دوران بہت شور رہا۔ اس دوران ضلع شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے نواز لیگ کے دو وفاقی وزراء رانا تنویر حسین اور میاں جاوید لطیف کے علاوہ پانچ ارکان پنجاب اسمبلی پیر اشرف رسول، حاجی چوہدری افتخار احمد بھنگو، رانا محمود الحق شاہین، چوہدری سجاد حیدر گجر، میاں رؤف احمد اور سردار محمد عرفان ڈوگر ایم این اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر خوب متحرک رہے۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے وزیر قانون چوہدری خرم شہزاد ورک ایڈووکیٹ اور تین ارکان پنجاب اسمبلی خان شیر اکبر خان، چوہدری عمر آفتاب ڈھلوں، چوہدری خرم اعجاز چٹھہ اور عمران خان کے ساتھ مستعفی ہو جانے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی بریگیڈیئر (ر) راحت امان اللہ خان نے بھی دوسری طرف غیر معمولی طور پر پاکستان تحریک انصاف سے وفاداری کے مظاہرے کیئے۔ راولپنڈی کے جلسہ میں اسمبلیوں سے باہر آنے کا اعلان ہونے کے چند منٹوں بعد ہی وطن عزیز میں سب سے پہلے پنجاب کے وزیر قانون چوہدری خرم شہزاد ورک ایڈووکیٹ نے عمران خان کی کال پر لبیک کہا اور اعلان کیا کہ وہ سب سے پہلے کپتان کے حکم پر وزارت سے سبکدوش ہوں گے۔ ان کی تقلید تینوں ارکان پنجاب اسمبلی خان شیر اکبر خان، چوہدری عمر آفتاب ڈھلوں اور چوہدری خرم اعجاز چٹھہ نے بھی کی۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ پنجاب کے وزیر قانون اور اس ضلع سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے تینوں ارکان پنجاب اسمبلی نے اپنے استعفے پاکستان تحریک انصاف ضلع شیخوپورہ کے صدر چوہدری کنور عمران سعید خان ایڈووکیٹ کے پاس جمع کروا دیئے ہیں اور اب وزیر قانون پنجاب چوہدری خرم شہزاد ورک ایڈووکیٹ شیخوپورہ میں وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کے خلاف قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی خان شیر اکبر خان بھی اب قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ قبل ازیں ان کے والد مقتول ایم این اے خان محمود اکبر خان اور بعداذاں ان کی والدہ محترمہ بھی شیخوپورہ کے حلقہ سے ایم این اے منتخب ہوئی تھیں۔ شیخوپورہ شہر کے قومی اسمبلی کے حلقہ سے سابق ایم این اے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے موجودہ مشیر چوہدری خرم منور منج بھی الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لیے سابقہ امیدواروں کے ساتھ ساتھ اب چوہدری اویس عمر ورک، میاں علی بشیر ایڈووکیٹ، سید سجاد حسین شاہ، چوہدری شہباز چھینہ، چوہدری منیر قمر واہگہ اور رانا اسد اللہ خان کی صورت میں نئے چہرے بھی منظر عام پر آگئے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے دوران ایم پی اے خان شیر اکبر خان کو بھرپور مخالفت کے باؤجود یہ کامیابی ملی ہے کہ وہ شیخوپورہ کے اسسٹنٹ کمشنر میاں محمد جمیل کو یہاں سے تبدیل کروانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ جن کے تبادلے کے احکامات محکمہ ایس اینڈ جی اے پنجاب کی طرف سے جاری ہونے کے بعد 6 روز تک تبادلہ رکوانے کی کوششیں جاری رہیں۔ جن کی جگہ پر پی اے ایس کیڈر کی دیانتدار خاتون آفیسر محترمہ ڈاکٹر زینب طاہر کو تعینات کر دیا گیا جو اس ضلع میں قبل ازیں بطور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے فرائض دیانتداری سے انجام دینے والے پی اے ایس کیڈر کے آفیسر محسن صلاح الدین کی اہلیہ ہیں۔ محسن صلاح الدین اپنی تعیناتی کے دوران اس لحاظ سے مشہور ہوئے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ ساتھ صوم و صلوۃ کے بھی پابند تھے اور کئی اہم اجلاس چھوڑ کر بھی نماز باجماعت ادا کرنے کی خاطر کچہری میں سابق ڈپٹی کمشنر شیخ سلیمان اعجاز کی کوششوں سے بننے والی مسجد میں اذان سنتے ہی پہنچ جاتے تھے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ محترمہ ڈاکٹر زینب طاہر کی تعیناتی کے بعد اب محکمہ مال میں سرعام جاری کرپشن روکنے کے لیے اقدامات اٹھائےجانے کی امید ھے اور پٹواریوں کو بھی بیگاریں نہیں بھگتنا پڑیں گی، جعلی پٹرول پمپوں سے کوئی ماہانہ بھتہ وصول نہ کرے گا اور پٹوار خانوں کو غیر متعلقہ لوگوں سے پاک کیا جائے گا اور ریونیو افسروں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دانیوں پر کنٹرول ہوگا اور سرکاری محاصل کی وصولی کی رفتار بھی بہتر ہوگی

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد امیر بھٹی کی طرف سے عدالتی افسروں کی طرف سے اعلیٰ تعلیم اور قانون کی اضافی ڈگریوں کے حصول کی خاطر بیرون ملک جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کی خاطر چھٹیاں لینے کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے اور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بیرون ملک جانے کے لیے کئی عدالتی افسران پہلے سے جاری شدہ ہدایات کو بھی مدنظر نہیں رکھتے۔ جس کی وجہ سے سائلوں کے مقدمات تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور جلد حصول انصاف کا بنیادی مقصد بھی متاثر ہوتا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ہدایت جاری کی ہے کہ آئندہ کسی بھی عدالتی افسر کی بیرون ملک جانے کی ایسی درخواست پر کارروائی نہ ہوگی جس میں چھٹی کی مدت درج نہ ہو اور بیرون ملک جا کر چھٹی کی مدت بڑھانے کے لیے درخواست بھیجنے والے عدالتی افسروں کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا جائے گی۔ تاہم ایسے جج اور مجسٹریٹ صاحبان اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے جو میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں علاج کے لیے بیرون ملک جائیں اور ان کے لیے واپسی کا سفر علاج کی تکمیل کے بغیر ناممکن ہو۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر محمد امیر بھٹی نے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ آئندہ تعلیم کی خاطر بیرون ملک جانے والے عدالتی افسران کو پہلے اپنے بیرون ملک کے اداروں میں داخلہ کی اجازت لینی پڑے گی اور وہ چھٹی کی درخواست کے ساتھ ہی داخلہ مل جانے کا اجازت نامہ بھی منسلک کریں گے انہوں نے مزید ہدایت جاری کی ہے کہ عدالتی افسروں کو مجوزہ تعداد میں بیرون ملک ایل ایل ایم اور ڈاکٹریٹ کرنے کی خاطر جانے کے لیے اجازت دی جائے گی ہر سال چار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز / ایڈیشنل سیشن ججز چار سینئر سول ججز / سول ججز بیرون ملک جاسکیں گے جن میں سے دو سیشن ججز ایل ایل ایم جبکہ دیگر دو تین ججز پی ایچ ڈی کی خاطر جاسکیں گے اسی طرح چار سول کورٹس کے ججوں میں سے دو سینئر سول ججز / سول ججز ایل ایل ایم کے لیے اور دیگر دو ایسے ججز پی ایچ ڈی کے لیے بیرون ملک جاسکیں گے جن کا تعین سنیارٹی اور پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر ہوگا

واقفان حال کا کہنا ہے کہ بیرون ملک تعلیم کے لیے جانے والے ججز کے لیے لاہور ہائی کورٹ نے 20 لاکھ روپے کے انڈر ٹیکنگ بانڈ بھی جمع کروانے کی شرط عائد کر دی ہے جو اس بات کا ضمانت نامہ ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد عدالتی افسر نوکری نہیں چھوڑے گا۔ اس کو بیرون جانے کی اجازت دی جائیگی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان پابندیوں کا اطلاق حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے اور مخصوص حالات کے علاوہ رشتہ داروں کے ہاں خوشی اور سوگ کے پروگراموں میں شرکت کے لیے جانے والے عدالتی افسروں پر نہیں ہوگا اور عدالتی افسران ماہ رمضان المبارک اور محرم الحرام کے دوران بھی زیارتوں کے لیے چھٹی لے سکتے ہیں۔ یہ چھٹیاں سفر کے شیڈول کے مطابق دی جائیں گی۔ جبکہ غیر سرکاری تنظیموں وغیرہ کے دعوت ناموں پر عدالتی افسروں کے بیرون ملک جانے کے رجحان کو سختی سے روکا جائے گا اور بیرون ملک جانے والے عدالتی افسروں کو ممکنہ اخراجات اور اپنے اثاثوں کے بارے میں بھی آگاہ کرنا لازمی ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں