105

کالم :قرآن اور آئین پاکستان

کالم : قرآن اور آئین پاکستان

تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ

اللہ کریم کی نازل کردہ کتابوں قرآن مجید، زبور، انجیل اور توریت میں اسوقت سب سے معتبر کتاب صرف قرآن مجید و فرقان حمید ہے۔ کیونکہ باقی تین کتابیں اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہیں، وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ان کتابوں میں تر میم و تحریف ہوچکی ہیں۔ دوسری جانب قرآن وہ پہلی آسمانی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا، گویا اس کی حفاظت کے لیے یہ وعدہ الٰہی ہے۔ اللہ رب العزت کا سورۃالحجر میں ارشاد ہے” ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔” اور قرآن کا سورۃ آل عمران میں اعلان ہے کہ ” اللہ کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرتے “۔بس اللہ نے اپنا یہ وعدہ سچ کر دکھایا۔ اور کتاب اللہ کی حفاظت کا حیرت انگیز انتظام کیا۔ اس طور پر کہ اس کے الفاظ بھی محفوظ، اس کے معانی بھی محفوظ، اس کا رسم الخط بھی محفوظ، اس کی عملی صورت بھی محفوظ، اس کی زبان بھی محفوظ، اس کا ماحول بھی محفوظ، جس عظیم ہستی پر اس کا نزول ہوا اس کی سیرت بھی محفوظ۔ الحمد اللہ۔ ماشاءاللہ۔ قرآن مجید کی مکمل تعریف کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔مجھ جیسا گناہگار انسان حصول برکت اور اپنی آخرت سنوارنےکی غرض سے بزرگان دین کی تعلیمات کی نقل کرنے کی کوشش ہی کرسکتا ہے۔بہرحال، یہ کتاب رب العالمین کی جانب سے رحمتہ العالمین ﷺ پر نازل ہوئی۔ چونکہ نبی کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں، آپکے بعد نبوت اور رسالت کا سلسہ ختم ہوچکا، اسی طرح قرآن کے بعد کوئی آسمانی کتاب نازل نہیں ہوگی۔ کلمہ طیبہ کے نام پر وجود میں آنے والی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی بات کی جائے تو یہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوگی کہ 1973 کا آئین پاکستان کافی حد تک اسلامی آئین ہے۔ ریاست کا نام (اسلامی جمہوریہ پاکستان)، ریاست کا سرکاری مذہب(اسلام)، ریاستی سربراہان کا مذہب( صرف مسلمان ہی صدر اور وزیراعظم جیسے کلیدی عہدوں پر براجمان ہوسکتا ہے)، مسلمان اور غیر مسلم کی تعریف تک کے معمالات آئین پاکستان میںواضح طور پر درج ہیں۔ آئین پاکستان میں تقریبا 17 مرتبہ لفظ “قرآن” کا ذکر موجود ہے۔ آئین پاکستان کےآرٹیکل2-A ابتدائیہ/تمہید (preamble) میں مملکت کے حصول بارے بتایا گیا ہے کہ “جس میں مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگیوں کو اسلام کی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق ترتیب دیں جیسا کہ قرآن و سنت میں بیان کیا گیا ہے”۔آرٹیکل 31میں ریاست کی ذمہ داریوں میں اک ذمہ داری یہ بھی بتائی گئی ہے کہ اور ایسی سہولیات فراہم کریں جن کے ذریعے وہ قرآن و سنت کے مطابق زندگی کے مفہوم کو سمجھنے کے قابل ہو سکیں تاکہ ریاست پاکستان کے مسلمان اپنی زندگیوں کو اسلام کے بنیادی اصولوں اور بنیادی تصورات کے مطابق ترتیب دیں۔ قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی بنانا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کرنا اور قرآن پاک کی صحیح اور درست طباعت اور اشاعت کو محفوظ بنانا یہ سب ریاسی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔۔ آرٹیکل 42 اور آرٹیکل91(5) کے تحت صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کا حلف کہ “میں یہ حلف دیتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ کی وحدانیت پر، اللہ کی کتابوں پر، قرآن مجید آخری کتاب کے طور پر، اور حضرت محمد بطور نبی ﷺاور ختم نبوت پر اور اس بات پر کہ انکے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا، روز قیامت پر اور اور قرآن و سنت کے تمام تقاضوں اور تعلیمات پر ایمان رکھتا ہوں”۔آرٹیکل203-D کے مطابق وفاقی شرعی عدالت اس سوال کا جائزہ لے سکتی ہے اور فیصلہ کر سکتی ہے کہ آیا کوئی قانون یا قانون کی شق قرآن پاک اور سنت نبوی میں بیان کردہ احکام اسلام کے منافی ہے یا نہیں۔ آرٹیکل 227 کے مطابق پارلمینٹ کو واضح کرہدایات کردی گئی ہیں کہ تمام موجودہ قوانین کو اسلام کے احکام کے مطابق لایا جائے گا جیسا کہ قرآن پاک اور سنت میں بیان کیا گیا ہے، اس حصے میں جن کو اسلام کے احکام کہا جاتا ہے، اور کوئی ایسا قانون نافذ نہیں کیا جائے گا جو اس طرح کے احکام کے خلاف ہو۔ آرٹیکل 228 میں اسلامی کونسل کی تشکیل کے لئے واضح ہدایات موجود ہیں کہ صدر قرآن اور سنت میں بیان کردہ اسلام کے اصولوں اور فلسفے سے واقفیت رکھنے والے افراد میں سے تقرر کر سکتا ہے۔ آرٹیکل 230 کے مطابق پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر لحاظ سے اپنی زندگیوں کو دستور (اسلام کے اصول اور تصورات جیسا کہ قرآن اور سنت میں بیان کیا گیا ہے) کے مطابق ترتیب دینے کے قابل بنانے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے طریقوں اور ذرائع کے بارے میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو سفارشات پیش کرنا اسلامی کونسل کے فرائض میں شامل ہے۔ آرٹیکل 260 (3) (a) کے مطابق مسلمان کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:’’مسلما نـ‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدت و توحیدقادر مطلق اللہ تبارک تعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہواور ایک نبی یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہواور نہ اسے مانتا ہوجس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبرہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔آرٹیکل 260 (3) (b) کے مطابق :غیر مسلم کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:’’غیر مسلم‘‘ سے ایسا شخص مراد ہے جو مسلمان نہیں اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ،بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو ـ ’احمدی‘ یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخصی یا کوئی بہائی، اور کسی درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔اللہ کریم ہم سب کو قرآن مجید میں درج ہدایات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں