109

کالم سانحہ وزیر آباد اور حصول انصاف کا قانونی طریقہ کار

کالم : سانحہ وزیر آباد اور حصول انصاف کا قانونی طریقہ کار

تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ

وزیر آباد کی حدود میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ایک قیمتی جان کا نقصان ہوا اور عمران خان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس ہولناک واقعہ پر پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کے افراد نے افسوس اور مذمت کا اظہار کیا۔ ایک طرف افسوناک واقعہ پرعوام الناس میں غم وغصہ دیکھنے کو ملا وہیں پر اتنے بڑے سانحہ کی ایف آئی آر کے اندراج میں حد درجہ تاخیر دیکھنے کو ملی۔ پاکستانی معاشرے میں ایف آئی آر کے اندراج کا نہ ہونا یا اندراج میں تاخیر ہونا، اندراج کروانے یا اندراج رکوانے کے لئے دباؤ جیسے واقعات کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ پاکستانی معاشرے میں یہ عام سی بات ہے۔ مگر حیرانی اس بات کی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان جیسی قد آور شخصیت پر ہونے والے قاتلانہ اور دہشتگردی جیسے واقعہ پر ایف آئی آر کے اندراج کے لئے بالآخر عدالت عظمیٰ کو آرڈر جاری کرنا پڑا۔ بہرحال آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف یعنی جرم کے خلاف انصاف حاصل کرنے کا طریقہ کار۔ جرائم جیسا کہ چوری، ڈکیتی، زنا، قتل، لڑائی جھگڑا، اقدام قتل، منشیات وغیرہ کے خلاف حصول انصاف کے لئے پاکستانی کرمینل (فوجداری) جسٹس سسٹم میں واضع ہدایات موجود ہیں۔فوجداری قوانین جیسا کہ تعزیرات پاکستان اور مجموعہضابطہ فوجداری کے تحت درج ذیل طریقہ کار موجود ہیں۔جیسا کہ تھانہ میں ایف آئی آر (ٖFirst Information Report) کا اندراج، پولیس تفتیش، عدالتی کاروائی،بریت یا سزا، سزا کے خلاف اپیل، بریت وغیرہ وغیرہ۔

پولیس کو اطلاع:

چوری ڈکیتی، حادثات،قاتلانہ حملہ، جنسی زیادتی وغیرہ کی صورت میں پولیس کو بروقت اطلاع انتہائی ضروری ہے۔پولیس کو بروقت اطلاع دینے کے لئے 15 پر کال کرنی چاہئے۔اسکے ساتھ ساتھ 1122 کو بھی کال کرنی چاہئے تاکہ متاثرہ شخص کو فی الفور طبی امدار مہیا کی جاسکے۔

طبی معائنہ:

جسمانی ضربات کی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج کے لئے سب سے پہلے میڈیکل لیگل رپورٹ یا سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہو تی ہے۔ فوجداری نظام انصاف میں میڈیکل لیگل رپورٹ بہت ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔یہ رپورٹ صرف حکومت کی جانب سے کسی سرکاری ہسپتال میں تعینات میڈیکل آفیسر ہی جاری کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ زخموں کی نوعیت ہی جرم کی شدت کا تعین کرتی ہے۔اور اسی بناء پر ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان میں درج جرائم کی دفعات کا اندراج کیا جاتا ہے اور مجرم کو سزاء بھی انہی دفعات کی بناء پر ملتی ہے۔ زخمی کو سرکاری ہسپتال پہنچانے سے پہلے تھانہ میں پہنچ کر پولیس ڈاکٹ حاصل کرنا ہوتی ہے۔ (جان جانے کا خطرہ لاحق ہو یا بہت ہی زیادہ ہنگامی صورتحال میں متاثرہ شخص کو تھانہ لیجانے کی بجائے فوراسرکاری ہسپتال میں داخل کرواناچاہئے کیونکہ سرکاری ہسپتال میں قائم پولیس چوکی سے پولیس ڈاکٹ حاصل کی جاسکتی ہے)۔ پولیس ڈاکٹ کے حصول کے بعد سرکاری ہسپتال میں میڈیکل آفیسر متاثرہ شخص کا طبی معائنہ اور علاج کرتا ہے۔ اور میڈیکل لیگل رپورٹ تیار کرتا ہے۔

ایف آئی آر کا اندراج:

ٖضابطہ فوجداری کی شق 154 کے تحت کوئی بھی شخص کسی قابلِ سماعت اور قابل دست اندازی جرم کی اطلاع دے کر ایف آئی آر درج کرواسکتا ہے۔ اس کا متاثرہ شخص سے کسی قسم کا تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔یعنی متاثرہ شخص یا کوئی اور بھی ایف آئی آر کا اندراج کرواسکتا ہے۔قانونی طور پر پولیس کی مدعیت میں بھی ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔

پولیس کا عدم تعاون:

تھانہ میں FIR کا اندراج نہ ہونا، پولیس کا عدم تعاون یا ناقص تفتیش کی صورت میں سائل مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت جسٹس آف پیس اور علاقہ مجسٹریٹ کے پاس براہ راست رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ مندرجہ ذیل طریقوں سے عدالت سے دادرسی یا انصاف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے جسٹس آف پیس عمومی طور پر سیشن جج صاحبان ہوتے ہیں۔

نمبر 1: ضابطہ فوجداری کی شق 22 اے اور بی کے تحت متاثرہ فریق جسٹس آف پیس کی عدالت میں جا کر بتا سکتا ہے کہ پولیس اس کا مقدمہ درج کرنے سے انکار ی ہے جس پر عدالت پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اگر پھر بھی پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کرے تو متاثرہ فریق ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر سکتا ہے۔

نمبر 2: اگر پولیس ایف آئی درج نہیں کررہی یا ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تعاون نہ کر رہی ہو یا ناقص تفتیش کررہی ہے تو مدعی براہ راست مجسٹریٹ کی عدالت میں استغاثہ(شکایت) دائر کرسکتا ہے۔ضابطہ فوجداری کی شق 190 کے تحت علاقہ مجسٹریٹ کو استغاثہ (Complaint) کااندراج کروایا جاسکتا ہے۔ استغاثہ میں باقاعدہ ٹرائل ہوتا ہے اور ملزمان کو طلب کرنے کا حکم جاری کیا جاتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی شق 200 کے تحت مجسٹریٹ شکایت کی جانچ پڑتال کے بعد معاملہ مزید عدالتی کاروائی کے لئے متعلقہ عدالت میں بھیج دیتا ہے۔

سانحہ وزیر آباد کی ایف آئی آر کی تاخیر کے منفی اثرات:

عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد عمران خان کو وزیرآباد، گجرات، گوجرانوالہ یا لاہور کے کسی سرکاری ہسپتال میں لیجانے کی بجائے شوکت خاتم ہسپتال لیکر جایا گیا۔ نہ تو پولیس ڈاکٹ حاصل کی گئی اور نہ ہی سرکاری ہسپتال میں داخل کروا کرطبی معائنہ اور علاج کروایا گیا۔جس بناء پر سرکاری میڈیکل آفیسر سے میڈیکل لیگل رپورٹ بھی حاصل نہ کی گئی۔ صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت کے زیراہتمام کسی بھی سرکاری ہسپتال میں عمران خان کو داخل نہ کروا کر سنگین قانونی غلطی کی گئی ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ عمران خان کو اس سنگین قانونی غلطی پر اپنی پارٹی کی اعلی سطح کمیٹی تشکیل دینی چاہئے کہ وہ کون افراد تھے جنہوں نے عمران خان کو سرکاری ہسپتال میں داخل کروانے کی بجائے شوکت خانم ہسپتال پہنچایا اور سانحہ وزیر آباد کے مقدمہ کو نہایت کمزور کروادیا۔ اور اس بات کی حیرانی ہے کہ نہ جانے پی ٹی آئی قیادت پولیس کے عدم تعاون پر درج بالا دستیاب قانونی ذرائع کو بروئے کار کیوں نہ لائی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں