107

ویلڈن خان! تسی چھا گئے او

کالم: ویلڈن خان صاحب! تسی چھا گئے او
تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹ
اتوار 16 اکتوبر ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے ملکی سیاسی تاریخ میں ریکارڈ قائم کردیا۔ عمران خان نے صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخواہ، صوبہ سندھ میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں 7 نشستوں میں سے 6 نشستوں پر تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔ عمران خان کی اس تاریخی جیت پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ کچھ کے نزدیک عمران خان نے پی ڈی ایم اتحاد کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔ کچھ کے نزدیک عمران خان کی اس جیت کا ملکی سیاسی و پارلیمانی صورتحال پر کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ عمران خان نے انہی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جو سیٹیں پہلے بھی تحریک انصاف ہی کے پاس تھیں۔ بہرحال یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ پاکستانی تاریخ میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے سربراہ کا ایک ہی دن بیک وقت 6 سیٹوں پر انتخابات میں فتح حاصل کرنا بہت ہی معنی خیز ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ عمران خان کی جیت کی وجوہات کیا ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے نزدیک عمران خان کی فتح کا راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی ورکرز اور چاہنے والوں کو حد سے زیادہ متحرک کرلیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کے چاہنے والوں نے عمران خان کو ووٹ دیئے کہ اس جیت کے بعد عمران خان نے قومی اسمبلی میں نہیں جانا کیونکہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے، مگر پھر بھی عمران خان کے چاہنے والوں نے جوش و خروش سے عمران خان کو ملک بھر سے 6 نشستوں سے کامیاب کروایا۔ ضمنی انتخابات میں واضح فتح کے بعد اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں کے ہاتھوں مسند اقتدار سے باہر نکالے جانے والے عمران خان کی جانب سے امریکی سازش کا بیانیہ کا رنگ دینے کو انکے چاہنے والوں نے دل و جان سے قبول کرلیا ہے۔ عمران خان کے چاہنے والوں کی حالت اس وقت ایسی ہے کہ وہ عمران خان کی ہر بات کو ناصرف من و عن قبول کررہے ہیں بلکہ عمران خان کے ہر اشارے کو لبیک کرتے ہوئے دیکھائی بھی دیتے ہیں۔ دوسری طرف پی ڈی ایم جماعتوں کے لیڈران کی جانب سے ان ضمنی انتخابات میں نہ ہونے کے برابر سیاسی سرگرمیوں نے بھی عمران خان کی فتح میں خاص کردار ادا کیا ہے۔ بندہ ناچیز کی نظر میں عمران خان کی فتح میں سب سے اہم اور پہلا کردار پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے ڈالر پر عدم کنٹرول، گیس،بجلی، پٹرولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافہ کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی ہے۔ کیونکہ مہنگائی نے عوام الناس کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے ریاست پاکستان کو ڈیفالٹر ہونے سے بچانے والے اس بیانیئے کا عوام الناس پر کوئی خاص اثر نہیں پڑ ا۔ کیونکہ ماضی قریب میں عوام کا عمران خان حکومت نے پہلے ہی دیوالیہ نکال دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ماضی قریب میں عمران خان کی مرکز و دیگر صوبوں میں حکومتوں کی موجودگی اور مہنگائی پر عدم کنٹرول کی بناء پر پی ڈی ایم جماعتیں ہر ضمنی انتخاب میں فتح حاصل کررہی تھیں اورپی ٹی آئی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ آج صورتحال بالکل برعکس ہوچکی ہے۔ کیونکہ پی ڈی ایم حکومت نے سوائے مہنگائی کرنے کے عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے ابھی تک کوئی ایک پروگرام جاری نہیں کیا۔ کیا ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے حکومت وقت کو صرف عوام الناس کی چمڑی ہی نظر آتی ہے۔ آئی ایم ایف سے چند ارب ڈالر کے حصول کے لئے عوام الناس کا کچومڑ نکال دیا گیا۔ کیا حکومت وقت یہ بتا سکتی ہے کہ انہوں نے ریاست پاکستان کو ڈیفالٹر ہونے سے بچانے کے لئے حکومتی اخرجات میں کہاں کہاں نمایاں کمی ہے؟ حد تو یہ ہے پی ڈی ایم حکومت نے عمران خان حکومت کی طرح وزراء اور مشیران کی فوج بھرتی کرلی ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم پارٹیوں کو ان ضمنی انتخابات میں بدترین شکست کی دوسری اہم وجہ ان جماعتوں خصوصا مسلم لیگ ن کی جانب سے انتخابات کے عمل میں انتہائی سست روی کا مظاہرہ کرنا بھی شامل تھا۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت خصوصا مریم نواز، حمزہ شہباز کوان انتخابات میں جلسے جلوس اور ورکرز کو متحرک کرنے سے کس نے روکا تھا؟عین ضمنی انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ ن کی سب سے زیادہ متحرک لیڈرمریم نواز نے پاسپورٹ ملتے ہی لندن یاترا کے لئے سفر طے کرلیا۔حالانکہ اس وقت پارٹی امیدوران کی انتخابی مہم کے لئے انکی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ یاد رہے جمہوری عمل میں سیاسی پارٹی مخالف پارٹی کو کسی بھی قسم کا خلاء پر کرنے کی ہرگز متحمل نہیں ہوسکتی، یعنی کوئی سیاسی پارٹی اپنی مخالف سیاسی پارٹی کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑ سکتی۔ مسلم لیگ ن کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ پنجاب میں پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم کی جانب سے چھوڑے ہوئے سیاسی میدان میں کھل کر کھیلا، نا صرف اپنے پارٹی ورکرز کو متحرک رکھا بلکہ یہ ثابت کرنے بھی کامیاب رہی کہ پی ٹی آئی کا سیاسی ورکر کسی بھی صورت اپنے لیڈر کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ سب سے اہم بات کہ جمہوری عمل میں انتخابی حلقے کسی کی سیاسی جاگیر نہیں ہوا کرتے، مسلم لیگ ن کو اس خواب غفلت سے نکلنا ہوگا کہ پنجاب مسلم لیگ ن کا قلعہ ہے۔ یاد رہے ماضی قریب تک پنجاب میں مسلم لیگ ن کی کامیابی اور پسندیدگی کی وجہ اس جماعت کی جانب سے عوام الناس کے لئے بے پناہ ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کا قیام اور عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نکالنا تھا۔ بہرحال بندہ ناچیز عمران خان کا بہت بڑا ناقد ہونے کے باوجود ان ضمنی انتخابات میں خان صاحب کو شاندار کامیابی پر دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہے۔ ویلڈن خان صاحب! تسی چھا گئے او۔

اپنا تبصرہ بھیجیں