97

خیالی ریاست

پڑھنے والے اور دیکھنے والوں کے دماغوں نے چھلانگ لگا کر ایک ھی شبہیہ اپنے دماغ کی سکرین پر دیکھی ھو گی “عمران خان نیازی اور اسکے پیروکار ” ۔ ۔۔ کیونکہ اج کی تاریخ میں یہی دو کردار منظر عام پر سارا کھیل بپا کئے ھوئے ھیں۔
اگر ھم 2012 یا اس سے پیچھے چند سال دیکھیں تو ھمیں عمران خان کا نام صرف شوکت خانم کے حوالے سے ھی یاد ھو گا ماسوائے ان لوگوں کے جو سیاست میں مری مکھی کو بھی دیکھتے ھیں ۔ 2017 کے دھرنے اور ملکی نظام کے بیڑا غرق کے حوالے سے یہ شخص بچے بچے کو یاد ھو گیا ھوا ھے اب اس نام سے پاکستان تو کیا پاکستان سے باھر کی دنیا بھی بڑے اچھے سے واقف ھے کیونکہ دنیا کو ٹرمپ کی کاپی کی صورت میں پاکستانی عمران خان دستیاب رہا ھے ۔
عمران خان نیازی کے بیک گراؤنڈ کو کنگھالنے کی ھرگز ضرورت نہیں مجھے کیونکہ اس سے اب سبھی واقف ھو چکے ھیں ۔ ھم حالیہ حالات کو مدنظر رکھتے ھوئے اس شخص اسکے پیرو کار اور اسکے فیصلوں کے اثرات اسکی شخصیت کے پہلو جاننے کی کوشش کریں گے ۔۔
بہت سے لوگ اسے وقت کا ضیاع سمجھیں گے مگر میرا مشورہ ھے کہ ایسا نا سمجھیں کیونکہ ھمارا ایک پاکستانی ھونے کی حیثیت سے اس سب کو سوچنا اور جاننا بہت ضروری ھے ۔
عمران خان بحیثیت شخص ایک خود پرست شخص ھے جو اپنی ذات کے خولوں کے اندر اس قدر پختگی سے بند ھے کہ اسے کوئی وہاں سے نکال نہیں سکتا ھے ۔ خود پرستی خود پسندی اور حقیقت سے غیر شناسائی ، دوری یہ سب اس میں بدرجہ اتم موجود ھیں جس کے ثبوت یہ بارہا سکرین پر دے چکا ھے ۔ اسکی شخصیت کی الجھنوں نے اسے ایسی شخصیت بنا دیا ھے جسے عرف عام میں پاکستانی یو ٹرن کنگ کہتے ھیں ۔ اور حقیقتاً ایسا ھی ھے یہ بادشاہ تو ھے مگر یو ٹرن میں ھے ۔
عمران خان نیازی نے اس ملک کی بارشاھت جیسے بھی حاصل کی یہ حقیقت کسی سے چھپی ھوئی نہیں ھے بچہ بچہ جانتا ھے کہ میچ کیسے فکس ھوا کیسے پھر کسی اور کو بیٹنگ کا چانس ملا ۔۔۔ کیونکہ اصل فیصلہ تو امپائر نے ھی کرنا ھوتا ھے انگلی دکھا کر ۔۔۔
جیسے عمران خان نیازی نے ایک عمر عوام کو پھدو بنائے رکھا کہ ورلڈ کپ تو اسنے جیتا ھے جبکہ تاریخ گواہ ھے کہ اس نے تو میچ تک نہیں کھیلا جو جیت کر پاکستان نے کپ جیتا تھا ۔۔۔ عمران خان نیازی کبھی یہ نقطہ سمجھ نہیں سکا ھے کہ گیم ھو یا سیاست یہ one man شو نہیں ھوتا ھے یہ ھمیشہ team work ھوتا ھے اور آپکی قابل ٹیم ھی آپکو کپتان بناتی ھے ۔ ورلڈ کپ میں تو ٹیم اچھی تھی فوکسڈ تھی تو کپتان بن کر کپ لے آیا مگر سیاست میں الٹ ھوا سیاست میں بےچارے کو بس دھوکا ھی دیا گیا کہ ٹیم امریکن ریٹرن ھے سب بیسٹ اف بیسٹ ھیں ۔۔۔
مگر آخرمیں لومڑی جان گئی کہ انگور کھٹے ھیں اور نکل لینے میں ھی عافیت ھے ۔
نیازی نے حکومت کا خواب دیکھا اور باجوہ صیب نے اسکے وڈے ابو بن کر اسکو ملک کھلونے کی صورت تھما دیا کہ لو کاکا جی کھیڈ کر رکھ دینا ۔۔۔
مگر کاکے نا نا صرف کھیڈا بلکہ توڑ پھوڑ بھی کر دی کہ اگر مزید کھیڈنا نہیں تے فیر کھیڈن جوگا چھڈئیے ھی کیوں ۔۔۔
ملک کی اکانومی ،صنعتیں ، تعلیم سب کا ایسا پٹھا بٹھایا نیازی کی ٹیم نے کہ الامان الحفیظ ۔۔۔
اور ھر خے کی ذمہ داری ڈال دی پہلے تو کرونا مر جانے پر پھر اپوزیشن پر اور پھر خصماں نوں کھانا امریکہ ۔۔۔
خان صیب کے مرغی انڈا پراجیکٹ ، کٹا کٹی انویسٹمنٹ ، شہد لگاو مکھیاں وڈاو مہم اور بھنگ بیجو مست رہو اسکیم اس قدر خطرناک بلکہ یوں کہیئے کہ نیوکلئیر ہتھیار ثابت ھوئی کہ امریکہ فورا کوٹھے سے چھال مار کر ٹپ کر نیچے آیا اور شور مچادیا کہ اسکو پکڑو اسکو اتارو یہ سچا ھے صادق ھے امین ھے اس سے پہلے کہ اسکی صداقت اور امانت کے عذاب کا رخ امریکہ کی طرف ھو لے اس سے پہلے ھی اسکو نکالو چاھے وجہ ھو چاھے نا ھو ۔۔۔
نتیجہ ء سازش یہ ھو اکہ عمران خان نیازی کو زبردستی وزیراعظم ھاؤس سے نکالا گیا اور پرانے گھاگوں کو نئی پالش دے کر بٹھایا گیا که ثابت کرد اپنی اهلیت ۔۔
عمران خان نیازی کے نکلنے کی دیر ھایی کہ ملک کے اندر اور ملک کے باھر نیازی کے حق اور باقیوں کے خلاف ایک مہم بڑے زور شور سے شروع ھوئی (ٹی وی دیکھ کو تو یہی لگتا تھا ) اہل یوتھ نے اہنی زبانوں کی لگامیں کھول دیں اور ایسے ایسے کارنامے انجام دئیے که تاریخ دان آن کو قلم بند کرتے ھوئے شرمندہ ھی رہے گا ۔
اہل یوتھ نے عمرنا کو ایک انسان کے مرتبے سے اٹھا کر کپتان بنانے کے بعد اسکو امت مسلمہ کا خلیفہ بنا دیا نجات دہندہ بنا دیا اور یہ اصول نافذ کر دئیے کہ جو اسکو نہیں مانتا ھے وہ صد بہ صد مسلمانیت سے بری الذمہ ھو جائے گا ۔۔ حتیٰ کہ نیازی نے اہنے جلسوں میں موجودگی کو عمرے پر جانے سے بہتر قرار ھونے کا فتویٰ صادر کر دیا ۔۔
سوشل میڈیا پر ھر جگہ بہت ساری ایسی تصاویر گردش کرتی رہی ھیں جنکو اب یہاں شئیر کرنا ھرگز مناسب نہیں سمجھتی میں کیونکہ وہ میرے لئے سوچنابھی گناہ ھی ھے ۔۔
اہل یوتھ نے نیازی کو نبی خلیفہ ڈکلیئر کرنے میں ھرگز دیر نہیں لگائی یہ تو قادیانیوں کو بھی کاٹ گئے ھوئے جنکو مسلم قانون نے آئین نے کافر قرار دے دیا ھوا ھے ۔۔۔
لوگوں نے اس پاگل پن میں بہت سے ایسے گناہ کئے جو کہ انکے ایمان کے لئے صد بہ صد خطرہ تھے مگر انہوں نے خطروں کی پرواہ نا کرتے ھوئے بھی عمران خان نیازی پر درود بھیجناا شروع کر دیا ھوا ھے ۔۔
عمران خان نیازی کے پیروکاروں میں بہت پڑھے لکھے لوگ شامل ھیں مگر انکو پڑھے لکھے کہنا ھرگز مناسب نہیں ھو گا کیونکہ یہ سب ڈگری یافتہ ھیں مگر شعور یافتہ نہیں ھیں ۔ شعور انکے ایسے سو گئے ھیں جیسے دجال کی آمد پر اسکے سامںے آنے والوں کے سوئیں گے ۔۔ عمران خان نیازی کی حرکات و سکنات دیکھ کر اسکے mini دجاّل ھونے کا یقین سا آنے لگتا ھے کیونکہ لوگ اسکو ایسے ھی فالو کر رہے ھیں جیسے وہ دجاّل کو کریں گے اور اسکی جنت دوزخ کو اپنائیں گے ایسے ھی عمران خان نیازی اپنی بنائی جنت کو ھی جنت مانتا ھے باقی سب تو دوزخ ھے ۔
عمران خان کے پیروکاروں میں لوکل جاھلین کے علاوہ انٹرنیشنل جاھلین بھی شامل ھیں جنکو اس سے انقلاب کی امید ھے ۔ اسکے اترنے پر ان اوور سیز پاکستانیوں کا جھنڈا جلانا انکے پاگل پن کی ایک فصیح دلیل ھے کیونکہ جو لوگ رزق کی تلاش میں پہلے ھی سے ملک سے باھر براجمان ھیں اورانکو ملک کے حالات کا مکمل طور پر اندازہ بھی نہیں ھوتا ھے اسکے باوجود انکی خسرانہ طبیعت نے انکو مجبور کیا کہ وہ کام کریں جو کہ زیب ھی نہیں دیتا ھے ۔۔۔
میرا ان سے سوال ھے کہ
” جب ملک میں رہتے نہیں ھو تو حق جتاناکس بات کا ھوا ؟
جب اسکے اچھے برے حالات یہاں کے رہنے والوں نے ھی فیس کرنے ھیں تو تم کس بات کے خسروں کی طرح تالیاں مار کر اہ و بکا کرتے ھو اگر اسقدر غیرت جاگتی ھے تو آؤ ملک کے اندر رہو رہ کر فیس کرو اور حقیقت کی عینک لگا کر دیکھو جانو کہ یہاں تم لوگوں کا اصل دلال کون ھے ۔۔ باھر بیٹھ کر ایک تھکی ھوئی طوائف کی طرح ادائیں مت دکھاؤ ۔۔
تف ھے تم لوگوں کی شخصیت پرستی پر جس نے تم لوگوں کے اندر اس قدر خناس بھر دیا کہ تم لوگ جس جھنڈے کے وجود سے ھو جس ملک کی مٹی کی پیداوار ھو اس کی زرخیزی کو ایک پاگل شخص کے لئے جلا دیا ھے ۔۔ یہ ھے تم لوگوں کا لیڈر، یہ ھے تم لوگوں کا آئیڈیل ؟؟
جو تم سے تمہارے ملک کے جھنڈے جلوا رہا ھے جس نے تمہارے دماغوں میں ایسے کیڑے انجیکٹ کر دئیے ھیں جو تمہیں سیونکوں کی طرح پچھواڑے میں کاٹ کاٹ کر سُجا رہے ھیں اور تم لوگ ھوشمندی کا ثبوت نہیں دے سکتے ھو کیونکہ تم وہ بھگوڑے ھو جو ملک کی خستہ حالت کی تپش سے ڈر کر یورپئین ملکوں کے بارڈرز کو الیگلی پھلانگ کر دریائی گھوڑے کی کھال پہنے ھوئے ھو اور شیر کی دھاڑ کی نقلیں اتار کر خود کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ھو ۔
عمران نیازی کی حالیہ تقریریں اور اسکی کنٹینر پر کی گئی تقریریں اور اسکے حاکم وقت کی تقریروں کا آپ موازنہ کر لیں آپکو سب ایک سا لگے گا آپ کو اسکے الفاظ کے ذخائر کا علم ھو جائے گا کہ یہ ایک ھی مطلب کی بات کو کتنے انداز سے کر سکتا ھے خود کو ھر ملک کے حاکم سے بہتر بتا کر آخر میں خلفاء سے رسول اکرم صلی اللّٰہ و علیہ الہ وسلّم سے ملا لے گا (نعوذ باللہ) اور اسکے پیروکار خود کو اوائل اسلام کے وہ بہادر سچے جنگجو بتاتے ھیں جنہوں نے بتوں کو توڑ کر ایک اللہ کے مذہب کو عام کیا تھا جبکہ اگر آپ انکے بیک گراونڈذ دیکھیں تو آپکو انکی جڑیں قادیانیت میں ھی دکھیں گی ۔
نیازی اور اسکے تمام نمائندے ھر وقت ایک ھی بات رٹتے ھیں کہ ہم نے GDP اپ گریڈ کی ھے ہم نے اکاونٹ ڈیفسٹ امپروو کیا ھے ھر وقت پوائنٹس میں اہنے ترقی اپنے کارنامے بتاتے ھیں جبکہ وہیں اگر زمینی حقائق ان سے پوچھیں تو سب اچھا ھے سب اچھا ھو رہا ھے کے علاوہ کوئی جملہ نہیں ادا کر سکتے ھیں ۔۔ وہیں عوام روٹی کو ترس رہی ھے آٹا گھی چینی سب اسقدر مہنگا کہ ایک مزدور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے سے قاصر ھے عام عوام جی ڈی پی کے پوائنٹس سنا کر روزمرّہ کی خوردونوش نہیں خرید سکتی ھے وہ سبزی والے کو آپکے وہ ارلی خطابات سنا کر اس سے ٹماٹر پیاز نہیں لے سکتے ھیں وہ آٹے کی بوری آپکے خان کی تصویر سے حاصل نہیں کر سکتے ھیں اسکے لئے انکو وہ کاغذ کے ٹکڑے درکار ھیں جن پر قائد ملت کی تصویر ھے جنہوں نے اس ملک کو لاکھوں لوگوں کے خون اور انکے گوشت اور ھڈیوں کے ڈھیر پر حاصل کیا تھا ۔ یہ ملک اسلئے حاصل نہیں کیا تھا کہ ایک دن اسکو ایسے کسی باؤلے خود پرست اور خودساختہ قائد اور اسکے پیروکاروں کے ھتے چڑھا دیں اس ملک کے پہرے دار ۔۔۔
پونی صدی گزر گئی اس ملک کو بنے ھوئے مگر اب بھی یہاں کٹھ پتلیاں ھی راج کر رہی ھیں اس ملک کو دو قومی نظرئیے پر حاصل کیا گیا تھا مگر وہ دو قومی نظریہ اب عسکری اور سِول بن چکا ھے ایک طرف عسکریت ھے دوسرل طرف سِولین ۔۔ bloody civilian
حالیہ حکومت نے حکومت کی کرسی حاصل کرنے کے لئے جو بھی اقدامات کئے ھمیں عوام ھونے کے ناطے اس پر اعتراض نہیں مگر ھمیں اعتراض ھے اس پر کہ آپ لوگوں نے کرسی پر بیٹھ کر عوام کے مصائب کو محسوس نہیں کیا منافقت اور ناقص کارکردگی کے ھتھیار آپ لوگوں کے بھی کافی کارگر ھیں ۔۔۔ حاکمین کو کرسی ہر بیٹھنے کی جلدی کرنے کی بجائے حالات حاضرہ کا خیال رکھتے ھوئے درست سمت میں چلنے کی ضرورت تھی اس یقین کہ ساتھ کہ اب کہ باری آپ ہی کی ھے ۔

ھم عوام حاکمین کے غلام ۔۔۔۔ ھم کیا پدی کیا پدی کا شوربہ کی مثال بنے ھوئے ھیں اور ایسا ڈٹے ھوئے ھیں اس پر کہ ھم پر سے ٹرک بھی گزار دے سرکار تو ھم یہی کہیں گے
سرکار مولا خوش رکھے اسی تیاڈے نوکر ایک واری ھور ۔۔۔۔
ھمارے خون میں اب ابال نہیں اٹھتے ھیں اب ھم حق کے لئے اکٹھے نہیں ھو سکتے ھیں اب ھم شخصیتوں کو ریاست مان کر جی رہے ھیں سب بکھرے ھوئے ھیں سب بٹے ھوئے ھیں ۔۔
بٹے رہئیے شریکا پیٹتے رہئیے کیونکہ پاکستانی عوام اسی کے لئے شہرت رکھتی ھے ۔

یہ ملک تو اب اللہ کی سپرد ھے کیونکہ اسکے رکھوالے اسکے لیڈران اور اسکی عوام سب خودغرض کینہ پرور اور منافق ھے جو اب اسکو سنبھال نہیں سکتے ھیں ۔

صباء سیکھو

اپنا تبصرہ بھیجیں